از ماہ وش طالب
اس میں کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ آج کامعاشرہ بالخصوص پاکستانی معاشرہ وقت کے بدترین دور سے گزر رہا ہے پوری دنیا کے ممالک اسوقت کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں ملکی سالمیت اور حکمرانی کو قائم رکھنے کے لئے یہ نام نہاد با شعور قومیں ایک دوسرے کی پیٹھ پر وار کرنے سے گریزنہیں کرتیں۔مگر بحثیت پاکستانی مسلم قوم ہمیں اپنا گریبان جھاڑنے کی ضرورت ہے کہ اسے گندہ کرنے میں پہل کرنے والےہم مکین ہی ہیں ، پھر ہی دوسروں کوموقع ملا اس گھر میں کوڑاکرکٹ اکٹھا کرکے عالمی نقشے پر تماشہ لگانے کا۔ پاکستان میں اسوقت، دہشت گردی، کرپشن اورفحاشی جیسے جرائم نے اپنی جڑیں مضبوطی سے پھیلا رکھی ہیں۔ یعنی انفرادیت سے لےکر اجتماع تک معاشرہ گناہ کے جوہڑ میں بہہ رہا ہے، اور جو اپنے آپ کو اس جوہڑسے علیحدہ کرنے کی سعی کرتا ہے،اس پرمختلف مسالک کے مطابق طرح طرح کے فتاوٰی عائد کرکے اسے مافوق الفطرت قرار دے دیا جاتاہے۔ ایسی صورتحال میں وہ شدت پسندی کاشکار ہو جاتا ہے اور ایک جنونی کے طور پر سامنے آتا ہے، اور پھر ایسے جنونیوں کو گورے پکڑ پکڑ کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرکے دنیا بھر میں پاکستان کوایک دہشت گرد، پسماندہ، انتہا پسند قوم کےطور پر ریوائو کراتے ہیں. ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ مفاد کے مطابق دین کو اپناتا ہے, جو چیز اسے بہتر لگتی ہے اس پر عمل کرتا ہے اور جو اس کے موڈ یا مزاج سے میل نہیں کھاتی اس کے لئے کوئی جواز اپنا لیتا ہے اسکی سب سے بڑی اور عام مثال مرد کا دوسری شادی کرنا ہے, جسے یہ پتا ہے کہ چار شادیاں کرنا اسکا شرعی حق ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ چار بیویوں میں انصاف نہ کرنے باعث اسکی پکڑ کس قدر غضبناک ہوگی, معاشرے میں پھیلی بد ترین بے راہ روی کے کسی حدتک ذمہ دار وہ ٹی وی چینلز ہیں جن پر طرح طرح کے بدعنوانیت لئے ڈرامے دکھئے جاتے ہیں، اگر ان سے پوچھا جائے کہ اسطرح کامواد معاشرے کی تباہی کا باعث ہے تو جواب ملتا ہے ہم وہی دکھا رہے ہیں جو معاشرے میں ہو رہا ہے، ہمارے پروگرامز معا شرے کی عکاسی کر رہے ہیں۔عوام سے بات کریں تو کہتے ہیں کہ ہم یہ سب دیکھتے ہی نہیں. خیر اس پر تو الگ سے بہت لمبی بحث ہوسکتی ہے، ہر کسی نے مزہیب کو اتنا ہی اپنایا ہوا ہےجس سے معاشرے میں اسکا نام نہاد لبرلزم کا ٹیگ بھی رہے اور اندرونی طور پر اسکا دل بھی مطمئن ہو.سوشل میڈیا کہ بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی اس خانہء خرابی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی..جس سے معلومات کے ذخائر تو جمع ہو رہے ہیں مگر علم اور ادب ناپید ہورہا ہےاور اس بات کا ثبوت آپ کے گھروں میں موجود ہے.., نوجوان یہ جانتے ہیں کہ فیس بک کس نے ایجاد کی, پانی کے اندر کتنی مخلوق ہے اور خشکی پر کُل کتنے جاندار ہیں ,مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ اسکا زندگی میں آنے کا کیا مقصد ہے, اسکے ربّ نے اسے کیوں پیدا کیا..,ایک پردہ کرنے والی خاتون پر ٹیگ لگا دیا جاتا ہےکہ اسکے کرتوت کالے ہی ہونگے, صومُ صلوٰہ کی پابند لڑکی کو جدید تراش والی اور حیا سے مبرّا خاتون پر اس لئے فوقیت دے کر شرمندہ کیا جاتا ہے کہ وہ نماز نہیں پڑتی تو کیا ہوا , وہ پردہ نہیں کرتی تو کیا ہوا , کسی کی بُرائی تو نہیں کرتی نہ وہ, اور اسی طرح کی بے بنیاد باتیں کرکے ہمارے معاشرے کو بُری طرح فیڈ کیا جارہا ہے . علاوہ ازیں جنسی حوس و زیادتی جیسے کبیرہ گناہ نے جسطرح معاشرے کے کمزور عقیدہ لوگوں کو جکڑ رکھا ہے,, یہ امر قابلِ غور ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان سیکولر ریاست نہ بن جائے اور یہاں آئندہ آنے والی نسلیں لادینیت کا شکار نہ ہوجائیں.، پھر قابلِ غور و افسوس مسئلہ یہ بھی ہے کہ انفرادیت کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق اجتماع سے ہے، آپ ایک کریانہ سٹور کے مالک کی مثال لے لیجئے وہ چینی کو محض یہ سوچ کر اسٹاک کرے کہ میں نے تو صرف زائد پیسہ ہی کماناہے،یہ ناخالص تو نہیں ہے نہ ،کونسا کسی دوسرے کوغلط کام کی دعوت دے رہا ہوں وغیرہ وغیرہ پھرخواہش کے مطابق آمدن آنے پر وہ اپنا طرززندگی بدلتاہے،اگر پولیس کوذخیرہ اندوزی کی خبر جائے تو مٹھی گرم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ساتھی کاروباری کو پتہ چل جائے تواسکی مدد کی حامی بھر لی پھر بڑے بڑے گاہکوں ۔کاآناجانا ، یوں ایک سائیکل چلتا جاتا ہے، اور چیزیں آپس میں مربوط ہوتی چلی جاتی ہیں۔۔ ایک فرد کی بری نیت گھر اور معاشرے کوکس طرح کومتاثر کرتی ہے، یہ غور کرنے پر واضح ہوتاہے۔ جب فرد کی تربیت پاک ہاتھوں سے ہوئی ہوگی اور اسکا پیٹ حلال نوالے سے بھرا ہوگا تو اعمال و کردار میں بڑا فرق آئے گا۔

Comments
Post a Comment